-
Junior Member
کہیں یہ رمضان المبارک ہماری زندگی میں آخر®
ماہ رمضان مبارک ایک ایسا مہینہ کہ جس میں اللہ جنت کے دروازے کھول دیتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیتا ہے اور شیطان کو جکڑ دیتا ہے تا کہ وہ اللہ کے بندوں کو اس طرح گمراہ نہ کر سکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے۔ ایسا مہینہ کہ جس میں اللہ سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام دیتا ہے، جس میں خصوصی طور پر اللہ اپنے بندوں کی مغفرت کرتا اور ان کی توبہ اور دعائیں قبول کرتا ہے۔ تو ایسے عظیم الشان مہینے کا پانا یقینا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کی قدر و منزلت کا اندازہ آپ اسی بات سے کر سکتے ہیں کہ سلف صالحین رحمہم اللہ چھ ماہ تک یہ دعائیں کرتے تھے کہ یا اللہ ہمیں رمضان مبارک کا مہینہ نصیب فرما، پھر جب رمضان مبارک کا مہینہ گزر جاتا تو اس بات کی دعا کرتے کہ اے اللہ ہم نے اس مہینے میں جو عبادات کیں تو انہیں قبول فرما کیوں کہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ یہ مہینہ کس قدر اہم ہے۔ (لطائف المعارف ص ۰۸۲)
لہٰذا ہمیں بھی اس مہینے کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہےے۔ صحابہ کرامy جب رمضان مبارک کا مہینہ شروع ہوتا تو رسول اکرمe کو اس کے آنے کی بشارت سناتے اور انہیں مبارک باد دیتے۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے رمضان مبارک کی آمد کی بشارت سناتے ہوئے فرمایا: تمہارے پاس ماہ رمضان آ چکا جو کہ بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کےے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں سرکش شیطان جکڑ دئیے جاتے ہیں اور اس میں اللہ کی ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس کی خیر سے محروم رہ جائے وہی دراصل محروم ہوتا ہے۔ (النسائی: ۶۰۱۲، صحیح الجامع الصغیر للالبانی: ۵۵)
جہنم سے آزادی:۔
اس مبارک مہینے میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت سارے بندوں کو جہنم سے آزادی نصیب کرتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ہر افطاری کے وقت بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور ایسا ہر رات کرتا ہے۔ (ابن ماجہ ۳۴۶۱، صحیح الجامع الصغیر للالبانی: ۰۷۱۲)
اور سیدنا ابوسعید الخدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ (رمضان المبارک میں) ہر دن ہر رات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اور ہر دن ہر رات ہر مسلمان کی ایک دعا قبول کی جاتی ہے۔ (البذار۔ صحیح الترغیب والترہیب للالبانی: ۲۰۰۱)
ان احادیث کے پیش نظر ہمیں اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور پر یہ دعا کرنی چاہےے کہ وہ ہمیں بھی اپنے ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرما لے جنہیں وہ اس مہینے میں جہنم سے آزاد کرتا ہے کیونکہ یہی اصل کامیابی ہے۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں چھوڑا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں چھوڑا جاتا اور ایک اعلان کرنے والا پکار کر کہتا ہے: اے خیر کے طلبگار آگے بڑھ اور اے شر کے طلبگار اب تو رک جا۔ (الترمذی و ابن ماجہ، صحیح الترغیب والترہیب للالبانی: ۸۹۹)
ایک رات۔۔۔ ہزار مہینوں سے بہتر:
سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہ رمضان شروع ہوا تو رسول اللہe نے فرمایا بے شک یہ مہینہ تمہارے پاس آ چکا ہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور جو شخص اس سے محروم ہو جاتا ہے وہ مکمل خیر سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کی خیر سے تو کوئی حقیقی محروم ہی محروم رہ سکتا ہے۔ (ابن ماجہ: ۴۴۶۱، صحیح الترغیب والترھیب: ۰۰۰۱)
رمضان میں عمرہ حج کے برابر:
سیدنا عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے ایک انصاری خاتون کو فرمایا: جب ماہ رمضان آ جائے تو تم اس میں عمرہ کر لینا کیونکہ اس میں عمرہ حج کے برابر ہوتا ہے۔ (البخاری ۲۸۷۱، مسلم: ۶۵۲۱)
ایک روایت میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہe نے ایک انصاری خاتون سے، جسے ام سنان کہا جاتا تھا، کہا: تم نے حج کیوں نہیں کیا؟ تو اس نے سواری کے نہ ہونے کا عذر پیش کیا، اس پر رسول اللہe نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کی قضاءہے۔ (البخاری: ۳۶۸۱، مسلم: ۶۵۲۱)
یعنی جو شخص میرے ساتھ حج نہ کر سکا وہ اگر رمضان میں عمرہ کر لے تو گویا اس نے میرے ساتھ حج کر لیا۔
مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ:
نبی اکرمe کا ارشاد ہے: جس نے حالت ایمان میں اللہ سے حصول ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ)
اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نیت صادقہ اور یقین کامل کے ساتھ، محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے اجر و ثواب کو حاصل کرنے کی خاطر، دل کی خوشی کے ساتھ اور روزوں کو بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ رمضان المبارک کے ایام کو غنیمت تصور کرتے ہوئے روزے رکھے۔ اگر وہ اس کیفیت کے ساتھ روزے رکھے گا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے گئے۔
روزہ کا اجر صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے:
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل کئی گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر، حتیٰ کہ سات گنا تک بڑھا دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سوائے روزے کے جو کہ صرف میرے لےے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ وہ میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ (مسلم: ۱۵۱۱)
(سوائے روزے کے جو کہ صرف میرے لےے ہوتا ہے) سے مراد یہ ہے کہ مومن کے باقی نیک اعمال مثلاً نماز، صدقہ اور ذکر تو ظاہری ہوتے ہیں اور فرشتے انہیں نوٹ کر لیتے ہیں جب کہ روزہ ایسا عمل نہیں جو ظاہر ہو بلکہ صرف نیت کرنے سے ہی انسان روزے کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ اسی لےے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزہ صرف میرے لےے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہe نے روزے کو بے مثال قرار دیا ہے۔
ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولe مجھے کوئی حکم کریں جس پر میں عمل کروں تو رسول اللہe نے فرمایا: تم روزہ رکھا کرو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔ (النسائی، الصیام باب فضل الصیام: ۰۲۲۲، الالبانی فی الصحیحہ: ۷۳۹۱) یعنی شہوت کو ختم کرنے، نفس عمارہ اور شیطان کا مقابلہ کرنے میں اور اجر و ثواب میں روزے جیسا کوئی عمل نہیں۔اور چونکہ روزے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے اور اس کی مقدار کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اس لےے جب روزہ دار جب قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ روزے گا اجر و ثواب دے گا تو اسے بے انتہا خوشی ہوگی۔ جیسا کہ رسول اللہe نے فرمایا: روزہ دار کے لےے دو خوشیاں ہیں، ایک افطاری کے وقت اور دوسری اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت۔ (البخاری ۴۰۹۱، مسلم: ۱۵۱۱)
روزہ ڈھال ہے©:
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اور تم میں سے کوئی شخص جب روزہ کی حالت میں ہو تو وہ ناشائستہ بات نہ کرے اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرے اور اگر کوئی شخص اسے گالی گلوچ کرے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں۔ (البخاری: ۴۰۹۱، مسلم: ۱۵۱۱)
روزہ ڈھال ہے سے مراد یہ ہے کہ روزہ شہوت اور گناہ سے روکتا ہے اور اسی طرح جہنم سے بچاتا ہے جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد ہے: ”روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص جنگ سے بچنے کے لےے ڈھال لیتا ہے۔ (النسائی: ۱۳۲۲، ابن ماجہ: ۹۳۶۱)
باب الریان:۔
جنت میں ایک دروازہ کا نام باب الریان ہے، یہ دروازہ صرف روزہ دار کے لےے مخصوص ہوگا۔ جیسا کہ سہل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے باب الریان کہا جاتا ہے اس سے قیامت کے دن صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا اور پکار کر کہا جائے گا، کہاں ہیں روزہ دار؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور ان کے علاوہ کوئی اور اس سے جنت میں داخل نہ ہو گا اور جب وہ سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو اس دروازہ کو بند کر دیا جائے گا۔ (البخاری ۶۹۸۱، مسلم: ۲۵۱۱)
روزہ شفاعت کرے گا:
قیامت کے دن روزہ، روزہ دار کے حق میں شفاعت کرے گا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
روزہ اور قرآن دونوں بندے کے حق میں روز قیامت شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب میں نے اسے کھانے سے اور شہوت سے روکے رکھا، اس لےے تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول کر لے اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا، لہٰذا تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول کر لے۔ آپe نے فرمایا: چنانچہ ان دونوں کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔ (رواہ احمد والحاکم وغیرہما وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب: ۴۸۹)
روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے۔ جی ہاں روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے۔
جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(e) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے۔ (البخاری: ۴۰۹۱، مسلم: ۱۵۱۱)
روزہ جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے ہے:
حضرت ابوہریرہt سے روایت ہے کہ اک دیہاتی رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے کہا: اے اللہ کے رسولe مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جس پر میں عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاﺅں تو رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت بنا۔ فرض نماز قائم کر، فرض زکوٰة ادا کر اور رمضان کے روزے رکھ، یہ سن کر دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ہمیشہ نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ اس سے کم۔ پھر جب وہ چلا گیا تو رسول اللہe نے فرمایا: جو آدمی اہل جنت میں سے کسی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اسے دیکھ لے۔ (البخاری: الزکوٰة باب وجوب الزکوٰة: ۷۹۳۱)
روزہ خوروں کا انجام:۔
حضرت ابوامامہ الباہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہe کو یہ فرماتے سنا:© میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں میرے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے میرے بازوﺅں کو پکڑ کر مجھے اٹھا لیا اور ایک دشوار چڑھائی والے پہاڑ تک لے جا کر مجھے اس پر چڑھنے کے لےے کہا۔ میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا: ہم اسے آپ کے لےے آسان بنا دیں گے، چنانچہ میں نے اس پر چڑھنا شروع کیا حتیٰ کہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے وہاں چیخنے اور چلانے کی آوازیں سنیں میں نے دریافت کیا یہ چیخ و پکار کیسی ہے؟
انہوں نے جواب دیا کہ یہ جہنمیوں کی آہ و بکا کا شور ہے۔ پھر مجھے اس سے آگے لے جایا گیا جہاں میں نے کچھ لوگوں کو الٹا لٹکے ہوئے دیکھا جن کی باچھیں چیر دی گئی تھی اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزوں کے ایام میں کھایا پیا کرتے تھے۔ (ابن خزیمہ وابن حبان۔ وصححہ اللبانی فی صحیح الترغیب والترہیب ۵۰۰۱)
اللہ تعالیٰ ہمیں ماہ رمضان المبارک میں روزے رکھنے اور زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، کئی لوگوں نے پچھلے سال ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھے تھے لیکن اب وہ اپنے رب کے پاس چلے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو اس لےے اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کو منالیں۔
Posting Permissions
- You may not post new threads
- You may not post replies
- You may not post attachments
- You may not edit your posts
-
Forum Rules
Bookmarks